اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے سلامتی کونسل کی پابندیاں دوبارہ عائد کرانے کی غرض سے امریکہ کی یک طرفہ کوششوں کے بارے میں کہا کہ امریکہ اور ایک اور ملک کے سوا سلامتی کونسل کے تمام رکن ملکوں نے واضح طور پر اعلان کر دیا ہے کہ وہ واشنگٹن اس اقدام کو تسلیم نہیں کرتے۔
امریکہ یہ سمجھ رہا ہے کہ دنیا کے تمام ممالک کو اس کی خواہش اور منشا کے مطابق عمل کرنا چاہیے، اسی وجہ سے کہ واشنگٹن نے ایران کے خلاف سلامتی کونسل کی عائد کردہ پابندیاں دوبارہ بحال کرنے کے اعلان کے بعد، اپنے غیر قانونی اقدامات کی پیروی نہ کرنے والے ملکوں کے خلاف بھی تادیبی اقدامات کی دھمکیاں دینا شروع کر دی ہیں۔
امریکی وزارت خارجہ کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ اگر اقوام متحدہ کے رکن ملکوں نے پابندیوں پر عملدرآمد کے لیے خود کو تیار نہ کیا تو، امریکہ ان کے خلاف اپنے داخلی اختیارات کو استعمال کرے گا۔
ایسا دکھائی دیتا ہے کہ امریکہ ایران کے مقابلے میں اس قدر مجبور ہو گیا ہے کہ وہ پوری دنیا کے ملکوں کو دھمکیاں دینے پر اتر آیا ہے۔امریکہ اور اس کے بعض چھوٹے چھوٹے اتحادی ملکوں کے سوا مشرق و مغرب کی کسی بھی بین الاقوامی طاقت اور حتی سلامتی کونسل کے دیگر رکن ملکوں نے امریکہ کے اس دعوے کو صرف تسلیم ہی نہیں کیا بلکہ انہوں نے واشنگٹن کے خلاف موقف بھی اختیار کیا ہے۔
درحقیقت امریکہ کو ایران کے خلاف عالمی پابندیوں کے دوبارہ بحال ہونے کے غیر قانونی اعلان پر عملدرآمد کا بوجھ بھی اکیلے ہی اٹھانا پڑے گا جو عالمی سطح پر اسے مزید تنہا کر دے گا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲